نئی دہلی،22؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ہندوستان کے صرف 1فیصدامیروں کے پاس گزشتہ سال پیدا ہونے والی مجموعی دولت کی73فیصد مالیت ہے۔یہ معلومات ڈیوس میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے جاری ایک نئے سروے میں آیا ہے۔اس سے یہ بات ظاہرہوتی ہے کہ امیروں اور غریبوں کے درمیان کھائی مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔گزشتہ سال کے آکسفام سروے میں یہ خلاصہ ہواتھاکہ ملک کے صرف ایک فیصد امیروں کے پاس کل مالیت کا 58فیصد حصہ ہے۔سروے کے مطابق سال 2017کے دوران ہندوستان کے ایک فیصد امیروں کی مالیت کی دولت 20.9لاکھ کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔یہ رقم سال 2017-18 کی مرکزی حکومت کے کل بجٹ کے برابرہے۔سروے کے مطابق صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی غیربرابری کافی زیادہ ہے۔گزشتہ سال پیدا ہونے والے مجموعی اثاثوں کا 82فیصد دنیا کے صرف 1فیصد امیروں کے پاس ہے۔ سروے کے مطابق اس میں گزشتہ سال کے اعداد و شمار دئے گئے ہیں۔دنیاکے بڑے سرمایہ کاروں کے جماؤڑے والے عالمی اقتصادی فورم کے کچھ گھنٹوں پہلے ہی انٹرنیشنل رائٹس گروپ آکسفیم نے اپنے سروے کے نتائج جاری کیے ہیں۔دنیا کے انتہائی غریب 3.7ارب افراد کی دولت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہر سال آکسفیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ پر عالمی اقتصادی سربراہی اجلاس میں بھی تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔’ریوارڈ ورک ،ناٹ ویلتھ‘نامی اس رپورٹ سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ کچھ لوگوں کے لئے کتنا مال محدود ہے اور لاکھوں لوگ غربت سے باہر نکلنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔سروے کے مطابق اندازہ لگایا گیا ہے کہ دیہی ہندوستان میں کم از کم اجرت حاصل کرنے والے شخص کو کسی بڑے گامینٹ فارم کے زیادہ زیادہ اجرت تک پہنچنے کے لئے کم سے کم 941سال لگ جائیں گے۔گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 17نئے ارب پتی بنے ہیں۔اس طرح ملک میں کل ارب پتیوں کی تعداد 101ہوگئی ہے۔ہندوستانی ارب پتیوں کی مالیت 20.7لاکھ روپے سے زائد ہے، جوکہ تمام ریاستوں کی صحت اور تعلیم کے بجٹ کے 85فی صدی کے برابر ہے۔آکسفام کی انڈیا سی ای او نشا اگروال نے کہا کہ یہ ایک انتباہ ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی کا فائدہ کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہے۔سروے کے مطابق ملک میں صرف چار ارب پتی خواتین ہیں اور ان میں سے بھی تین کویہ دولت وراثت میں ملی ہے۔